Thursday, August 20, 2009

Asaap

کوئٹہ(آئی این پی )بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے ہمارے اور حکمرانوںکے درمیان خون کی نہر بن گئی ہے جسے پار کرنا دونوں کے لئے مشکل ہے ‘ ہم نے کئی بار دوستی کے ہاتھ بڑھائیں جو کاٹ دیئے گئے اب دوستی کے لئے ہمارے ساتھ ہاتھ نہیں ‘نواب بگٹی اور دیگر بلوچوں کے قتل میں ملوث کسی مجرم کو سزا ملتی تو شاید بلوچوں کے دلوں میں کوئی ہمدردی پیدا ہوتی ‘ بلوچ کاز کو نقصان پہچانے کا باعث بننے والے ہر عمل کی مذمت کرتے ہیں‘ٹارگٹ کلنگ میں لینڈ مافیا سمیت خفیہ ادارے ملوث ہوسکتے ہیں ‘بلوچ اور پشتونوں کو لڑانے کی سازشیں ناکام بنانے کے لئے پونم کو متحر ک کرنے کی ضرورت ہے۔ بدھ کو نجی ٹی وی چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا کہ روز اول سے ہی بلوچ عوام پر مظالم کے پہاڑ توڑ ے گئے ، نواب اکبر بگٹی اور میر بالاچ سمیت بلوچستان میں تمام قبائل کے افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے ہیں سب سے پہلے ہم ہی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے اور پرویز مشرف کے دور سے آج تک ہمارے کئے کارکنوں کو شہید کیا گیا البتہ1947کے بعد سے یہاں آنے والے افراد کو زیادہ ٹارگٹ کیا گیا اس میں لینڈ مافیا اور دیگر گروہ سمیت اعلیٰ حکومتی حکام بھی ملوث ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ میں خفیہ ادارے بھی ملوث ہے کیونکہ وہ عالمی سطح پر اجاگر ہونےوالے بلوچستان کے مسئلے کو دبانا چاہتے ہیں اور بلوچ جدوجہد کو بدنام کرنے کی سازش کی جارہی ہے ہم ایسی ٹارگٹ کلنگ کی مذمت کرتے ہیں جس سے بلوچ جدوجہد کو نقصان پہنچے انہوں نے اساتذہ کے قتل کی بھی مذمت کی اور کہا کہ اساتذہ ہمارے بچوں کا مستقبل سنواررہے ہیں ہم ان سے ہمدردی رکتھے ہیں ۔ آباد کاروں و دیگر آباد اقوام کی حفاظت سے متعلق سوال کے جواب میں بی این پی کے سربراہ نے کہا کہ ہم اپنی حفاظت نہیں کرسکتے دوسروں کی کیا حفاظت کریں گے ہمارے کئی کارکنوں کو بھی شہید کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نفرتوں کے جو بیج بوئے گئے ہیں ان کا خاتمہ کرنے والا کوئی نہیں ۔ اقتدار میں آنے والے تمام حکمرانوں نے ہمارے زخموں پر نمک پاشی کی ہے ۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے جلاوطنی ختم کے بعد سے رابطہ نہیں کیا البتہ میں نے شہباز شریف کی نا اہلی کے فیصلے کے موقع پر ان سے رابطہ کیا ۔ اختر مینگل نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ ظلم و نا انصافیوں کے خلاف بات کی ہے چاہے وہ کسی کے ساتھ بھی ہو لیکن ہمارے ساتھ ہونےوالی ظلم و نا انصافیوں کے خلاف کسی نے آواز نہیں اٹھائی انہوں نے کہا کہ اب بلوچستان کے عوام کو ”ہم آپ کے ساتھ ہیں“ جیسے خوش کن نعروں سے بہلایا نہیں جاسکتا اور اب وہ سمجھ گئے ہیں ۔ آصف علی زرداری نے اقتدار میں آنے کے بعد بلوچستان کے عوام سے معافی مانگی مگر زیادتیوں کا ازالہ نہیں کیا اور ابھی تک آپریشن کی بندش کا کوئی حکومتی اعلان نہیں ہوا ابھی بھی سیکورٹی فورسز سیاسی کارکنوں کو اٹھاکر غائب کررہی ہے سابقہ اور آج کے دور میں فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے قتل کرکے تابوت کو تالے لگادیئے جاتے تھے مگر اب مسخ شدہ لاشیں پھینک دی جاتی ہیں ۔ ایک اور سوال پر بلوچ رہنماءنے کہا کہ بلوچستان سے متعلق بنائی گئی نئی کمیٹی نے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا ، انہوں نے واضح کیا کہ کمیٹیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا پہلے بھی کمیٹیاں بنائی گئیں اور تجاویز دینے سے قبل ہی نواب بگٹی پر حملہ کیا گیا ۔ اختر مینگل نے کہا کہ مزاحمت کاروں کو پہاڑوں سے نیچے نہیں اترنے دیا جارہا انہیں مذاکرات میں شامل کرنا تو دور کی بات ہے ۔ بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر ٹارگٹ کلنگ اور بلوچستان کے دیگر معاملات میں غیر ملکی ایجنسیاں ملوث ہیں تو پاکستانی سیکورٹی فورسز اور ایجنسیوں کو اپنی ناکامی کا اعتراف کرنا چاہیئے، انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ فوج صرف اپنے ہی ملک میں کارروائیاں کرنے کے لئے بنی ہے اور ان کی غلط کارروائیوں سے حالات مزید خراب ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان دنیا میں معاشی اور تعلیمی طو رپر بہت زیادہ پسماندہ خطہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف سے پہلے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی منتخب حکومتیں آئیں انہیں محدود اختیار ات حاصل تھے اور یہ لوگ مجموعی طور پر بے بس تھے ۔انہوں نے کہا کہ اس خطے میں کسی بھی ملک میں کوئی صدر آرمی چیف سے مشورہ اور ڈکٹیشن نہیں لیتا بلکہ صدر اور اپنی کابینہ میں فیصلے اور مشورے کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب تک صوبائی خود مختاری کا مسئلہ قصہ پارینہ ہوچکا ہے 1973ءکے آئین کے تحت حکمرانوں کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ کنکرنٹ لسٹ صوبوں کو دیتا جو کہ نہیں دیا گیا ۔ گزشتہ چالیس سالوں کے دوران پل کے نیچے سے کافی پانی گزر گیا ہے ہمارے اور حکمرانوںکے درمیان پانی کا نہیں خون کی نہر بن گئی ہے جسے پار کرنا دونوں کے لئے مشکل ہوگیا ہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں سردار اختر مینگل نے کہا کہ بی این پی کے کنونشن میں ان سیاسی پارٹیوں کو دعوت دی گئی تھی جو کسی نہ کسی طرح سے ہمارے ساتھ اتحادی رہے ہیں اور ان میں وہ پارٹیاں بھی شامل تھیں جو پونم کا حصہ ہیں انہوں نے کہا کہ گوکہ پونم متحرک نہیں لیکن ہم پونم کو دوبارہ فعال کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ایک سازش کے تحت بلوچستان میںبلوچوں اور پشتونوں کو لڑایا جارہا ہے اس سازش کو ہم نے پہلے بھی پونم کے ذریعے ناکام بنایا اور آئندہ بھی ناکام بنائیں گے ۔ حاصل بزنجو کے پارلیمانی سیاست اور وفاق پر یقین رکھنے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں سردار اختر مینگل نے کہا کہ حاصل بزنجو کو ہم انہیں مزید صبر اور حوسلے کی دعا ہی دے سکتے ہیں بلوچستان کے لوگوں میں اب مزید حوصلہ نہیں رہا براہمداغ بگٹی نواب اکبر بگٹی کے پوتے ہیں ہم ان کو کس طرح یہ دعوت دے سکتے ہیں کہ وہ آئیں حکمرانوں کے ساتھ بیٹھ جائیں نواب بگٹی بلوچستان میں وہ واحد شخصیت تھے جو فیڈریشن پر یقین رکھتے تھے ان کی پارٹی کے جھنڈے میں چار ستارے چاروں صوبوں کی نمائندگی کرتے تھے ان کو بے دردی سے قتل کیا گیا لیکن اس میں ملوث سول و ملٹری بیورو کریسی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا آج ہم جس نہج پر پہنچے ہیں اس کے ذمہ دار حکمران ہیں انہوں نے کہا کہ یہ ملک اسلام کے نام پر بنایا گیا اسلام اور قرآن سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں اسی اسلام اور قرآن کے نام پر نواب نوروز خان اور ان کے ساتھیوں کو واسطہ دے کر پہاڑوں سے اتارا گیا اور بعد میں انہیں پھانسی دی گئی جب حکمرانوں کو قرآن پر بھروسہ نہیں تو ہم پھر 73ءکے آئین پر کس طرح بھروسہ کرسکتے ہیں جس کو انہوں نے بار بار کاغذ کا ٹکڑا قرار دیا ہے۔ بی این پی کے سربراہ نے کہا کہ ہم نے کئی مرتبہ دوستی کا ہاتھ بڑھایا لیکن ہمارے ہاتھ کاٹ دیئے گئے اب دوستی کے لئے ہمارے پاس ہاتھ نہیں انہوں نے کہا کہ نواب بگٹی اور بلوچستان کے دوسرے بلوچوں کو قتل کرنے کے بعد اگر حکمران فوری طور پر ذمہ داروں کے خلاف کوئی ایکشن لیکر سزا دلواتے تو شاید بلوچستان کے عوام کے دلوں میں کوئی ہمدردی پید ا ہوتی لیکن قاتلوں کو سزا دینے کی بجائے انہیں گارڈ آف آنر دے کر رخصت کیا گیا اور اب بھی مکمل پروٹوکول دیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس ملک کے لئے سب سے زیادہ قربانیاں بنگالیوں نے دیں ان کو انصاف نہیں ملا تو ہمیں انصاف کیسے ملے گا ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اب بھی اگر نواب اکبر بگٹی اور دیگر بلوچ شہداءکے قاتلوں کو سزا دی جائے اور اقوام متحدہ کی جانب سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے بعد واپسی کا سوچا جاسکتا ہے ۔ اقوام متحدہ آکر دیکھے کہ ہمارے ساتھ کیا ہورہا ہے اور اگر کوئی بلوچ قصور وار ہے تو ان کے لئے بین الاقوامی قانون کے تحت سزا تجویز کریں انہوں نے کہا کہ نواب بگٹی کے قتل سے پہلے ایاز میر اور مشاہد حسین آئے تھے اور ان کو نواب بگٹی نے ذمہ داری تھی ان لوگوں کی نیت اور صلاحیت پر ہمیں کوئی شک نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ کسی جرنیل اور فوجی جو ان کے قتل میں ملوث ہیں کے لئے سزا تجویز کرسکتے ہیں؟ ۔

No comments:

Post a Comment